گورنر اسٹیٹ بینک کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ
فائل فوٹوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گورنراسٹیٹ بینک نے قرضوں ،اسکیمزاورریلیف پربریفنگ دیتےہوئے کہا کہ گزشتہ دوہفتوں میں ایک ٹریلین روپے کے قرضوں کی مدت بڑھائی گئی۔سود کی ادائیگی میں بھی مہلت دی۔
فیض اللہ کموکا کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا ۔
گورنراسٹیٹ بنک رضا باقرنے ویڈیولنک کے ذریعے شرکاء کوبریفنگ دی۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہناتھاکہ گزشتہ دوہفتوں میں ایک ٹریلین روپے کے قرضوں کی مدت بڑھائی گئی۔سود کی ادائیگی میں بھی مہلت دی گئی ۔ملازمین کوفارغ نہ کرنے والی کمپنیوں کوپانچ فیصد تک شرح سود پرقرض کی اسکیم دی جس کے تحت 20 ارب روپے 250 کمپنیوں کودیے۔
انہوں نے کہاکہ شرح سود میں 4.25 پوائنٹس کی کمی کی گئی۔ دنیا میں سب سے زیادہ پاکستان میں کم کی گئی ہے۔
سیکریٹری خزانہ نے وزیراعظم ریلیف پیکج پربریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 100ارب روپے کا ایمرجنسی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ ریلیف اسکیم کے تحت این ڈی ایم اے کےلئے 25 ارب روپے رکھے گئے ۔خوراک کی کمی سے نمٹنے کےلئے حکومت صوبوں کے ساتھ ملکرکام کررہی۔آئی ایم ایف کے 1.4 ارب ڈالر کے فنڈز بھی ریلیف پرخرچ ہوگا۔
عائشہ غوث پاشا نے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عوام کوریلیف دینے کا سوال اٹھایا۔
سیکریٹری خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن کو بلانے کا کہہ دیا۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔